Showing posts with label ادب. Show all posts
Showing posts with label ادب. Show all posts

Saturday, March 8, 2014

ایک فقیر کے داتا بننے کا قصہ - اشفاق احمد کے زاویہ سے اقتباس


مجھے یاد ہے ایک دفعہ میرے مرشد سائیں فضل شاہ صاحب گوجرانوالہ گئے، میں بھی ان کے ساتھ تھا-
ہم جب پورا دن گوجرانوالہ میں گزار کر واپس آ رہے تھے تو بازار میں ایک فقیر ملا، اس نے بابا جی سے کہا کچھ دے الله کے نام پر-
انھوں نے اس وقت ایک روپیہ بڑی دیر کی بات ہے، ایک روپیہ بہت ہوتا تھا-
وہ اس کو دیا وہ لے کر بڑا خوش ہوا، دعائیں دیں، اور بہت پسند کیا بابا جی کو-

Friday, March 7, 2014

آنکھیں نم کر دینے والا ایک واقعہ - جناب اشفاق احمد کی تصنیف بابا صاحبا سے ایک اقتباس


مجھے یاد ہے جب میں لندن میں تھا ، وہاں ساکر(فٹبال) کے دیوانہ وار مقابلے ہوا کرتے تھے ۔ تو ایک جادو قدم کھلاڑی نارمن تھا جس کے آگے نہ بال رکتا تھا نہ کوئی کھلاڑی ٹھہرتا تھا ۔

ضمیر کی آواز


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک میں ایک تاجر رہتا تھا۔ وُہ اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی کی زندگی گزار رہا تھا۔ دونوں میاں، بیوی ایک دوسرے سے بڑھ کر بچوں کو پیار کرتے تھے۔ دن بھر کام کاج کرنے کے بعد جب وُہ گھر میں داخل ہوتا تو بچوں کو دیکھ کر اور اُن کے ساتھ لاڈ پیار کر کے اُس کی تھکن ختم ہو جاتی۔

Friday, August 9, 2013

یہودی فلسفہءِ اعتماد۔۔۔ پیا رنگ کالا از بابامحمد یحییٰ خان سے ایک اقتباس


حکایت یوں ہے کہ ایک بوڑھا کاروباری یہودی جب اپنی لاعلاج علالت کی وجہ سے سر پڑی کاروباری ذمہ داریاں پوری طرح نبھانے سے قاصر ہو گیا تو اس نے اپنے نابالغ فرزند کو اپنی جگہ تفویض کرنے کا فیصلہ کر لیا لیکن ایک خدشہ اسے رہ رہ کر پریشان اور فکرمند کر رہا تھا کہ بچہ ابھی کچا اور کاروباری معاملات کی پیرا پھیری سے ناواقف ہے۔ چونکہ جلد سے جلد بیٹے کو اپنی جگہ پہ بٹھانا اس کی مجبوری اور ضرورت بن چکا تھا، اس لئے خرانٹ بڈھے نے فوری طور پہ اسے وہی ازلی سبق پڑھانے کا سوچ لیا جو کبھی اس کے باپ نے اسے پڑھایا تھا اور جس کے نتیجہ میں ابھی تک اس کی کمر میں ریڑھ کا مہرہ اپنی جگہ سے کھسکا ہوا تھا۔