Thursday, June 27, 2013

افسانچہ، دل نامچہ - عربی سے ترجمہ شدہ


آج جب میں کالج سے لوٹی تو کیا دیکھتی ہوں کہ ہمارے گھر کے سامنے ایک نوجوان اپنی گاڑی میں بیٹھا ہے , جیسے کسی کا انتظار کر رہا ہو۔ ۔ ۔
پھر تو جیسے معمول بن گیا اور میں روز واپسی پر اسے اسی طرح گاڑی میں بیٹھے دیکھتی۔ ۔ ۔ لیکن نوجوان بہت با ادب لگ رہا تھا ۔ ۔ ۔ وہ زیادہ تر اپنا سر نیچھے کیے ہوئے بیٹھا رہتا صرف ایک لمحے کے لیے دیکھتا جب میں اس کے پاس سے گزر کر گھر میں داخل ہوتی ۔ ۔ ۔ لیکن وہ ہے کون؟ اور چاہتا کیا ہے؟

اگر چہ شروع شروع میں مجھے اسے اس طرح دیکھ کر الجھن سی ہوتی تھی ۔ ۔ ۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ دل میں خوش بھی ہورہی تھی کہ کوئی تو ہے جو میرا انتظار کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ پھر جب بھی میں اسے گاڑی میں بیٹھے دیکھتی تو دل زور زور سے دھڑکنا شروع کردیتا ۔ یا اللہ یہ کیا ہے ؟؟ کیا مجھے اس سے محبت ہوگئی ہے؟؟؟

جوانی کے بعد میری ایک ہی خواہش تھی ۔ ۔ ۔ عمر ڈھل جانے سے پہلے پہلے میری شادی ہوجائے تاکہ رشتہ داروں اور محلے داروں کی طرح طرح کی باتوں سے جان چھوٹے ۔ یہ درست ہے کہ نوجوان کی پرانی گاڑی اس کی غربت کا پتہ دیتی تھی لیکن کوئی بات نہیں وہ با اخلاق تو ہے، جیسا کہ معلوم ہوتا ہے۔

دن گزرتے گئے ۔ ۔ ۔
اب مجھے یقین سا ہونے لگا کہ نوجوان مجھ سے محبت کرتا ہے ۔ ۔ ۔ تبھی تو میرے آنے سے پہلے مجھے دیکھنے آجاتا ہے اور گھنٹوں میرے گھر جانے کے بعد بھی کھڑا رہتا ہے۔
لیکن آخر وہ میرے باپ سے میرا ہاتھ کیوں نہیں مانگتا؟؟
کیا وہ ڈرتا ہے کہ کہیں میرا باپ اسے ٹھکرا نہ دے ؟ کہ وہ ہمارے جوڑ کا نہیں ہے؟؟ لیکن یہ تو کوئی بات نہیں ، مال ودولت تو اللہ کی دین ہے ، آج اگر اس کی گاڑی پرانی ہے تو ہو سکتا ھے کل اس کے دن بدل جائیں۔ اگر وہ اس سے محبت کرتا ہے ، جیسا کہ اس کے طویل انتظار سے معلوم ہوتا ہے تو پھر سٹیٹس کا فرق کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مجھے وہ غربت میں بھی منظور ہے ۔

مہینے سے زیادہ ہوگیا لیکن نوجوان کی جانب سے کوئی حرکت سامنے نہیں آئی ۔ ۔ ۔ اب میں اس سے زیادہ انتظار نہیں کرسکتی تھی ۔ وہ مجھ سے بات کیوں نہیں کرتا؟ میرے دروازے پر دستک دے کر میرے باپ سے میرا ہاتھ کیوں نہیں مانگتا؟

بالآخر ایک دن میں نے خود ہی جرات کی اور اس کے پاس گئی ۔ ۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ۔ ۔ میں پہلی دفعہ اسے قریب سے دیکھ رہی تھی وہ زیادہ خوبصورت نہیں تھا لیکن کوئی بات نہیں ۔ ۔ ۔
وہ اپنے مخصوص انداز میں سر نیچھے کیے ہوئے سیٹ پر بیٹھا تھا ۔ ۔ ۔
مجھے پاس دیکھ کر ذرا سا چونکا اور سر اوپر کیا ۔ ۔ ۔
میں نے پوچھا کہ آپ ہمارے گھر کے سامنے گھنٹوں کیوں کھڑے رہتے ہو؟؟؟؟

" اس لیے کہ آپ کے WiFi کو پاس ورڈ نہیں لگا ھے " اس نے جواب دیا !!!!

ختم شد

No comments:

Post a Comment